ہماری کہانی

ہماری کہانی

ہماری کہانی

1990 کی دہائی کے اوائل میں پاکستانی کیپٹل مارکیٹ میں برق رفتار نمو (توسیع) کے ساتھ تجارتی حجم میں بہت بڑا اضافہ ہوا جس کے پیشِ نظر کاغذی شئیر سرٹیفیکیٹ کا سنبھالنا اور ان میں دستی لین دین نہ صرف محنت طلب بن گیا بلکہ اس میں وقت کا اسراف بھی ہونے لگا۔اس پس منظر میں کاغذی شیئرز کے سنبھالنے اور منتقلی کے اکتا دینے والے عمل کو ختم کرکے ایک ڈپازیٹری سسٹم کو قائم کرنے اور چلانے کیلئے سی ڈی سی کا قیام عمل میں آیا۔

1993میں پرائس واٹر ہاؤس کوپرز کے ماہرین نے ڈیپازیٹری کا نظریاتی ڈھانچہ تیار کرنے کیلئے ایک سٹڈی کا اہتمام کیا۔ اس سٹڈی کو یونا ئیٹڈ سٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ (یو ایس ایڈ) نے سپانسر کیا اور اس رپورٹ نے ڈیپازیٹری ڈیزائن کی بنیاد رکھی

نومبر 1994 ء میں سی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس سسٹم کو پاکستان میں متعارف کروانے کیلئے ایک ٹرن کی ٹھیکہ آئی بی ایم کنسورشیم کو عطا کیا۔ آئی بی ایم کنسورشیم نے مندرجہ ذیل نکات کے تفصیلی تجزیے کے بعد سی ڈی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ایک ہمہ گیر ماسٹر امپلیمینٹیشن پلان (ایم آئی پی) تجویز کیا

  • قومی ضروریات
  • کمپنی اور بینکنگ قوانین
  • ضوابط اور طریقہ کار
  • منصوبے کے مالی اور تنظیمی پہلو

اپریل 1995 ء میں سی ڈی سی کے بورڈ نے یہ ایم آئی پی منظور کر لیا۔ بنیادی ڈھانچے کی تکمیل میں سافٹ ویر کی ترتیب اور جانچ، افرادی قوت کی بھرتی اور تربیت اور سی ڈی سی کے دفاتر کا قیام شامل تھا۔سی ڈی سی کے لاہور اور اسلام آباد کے دفاتر ہیڈ آفس کے ساتھ وی سیٹ لنک سے منسلک تھے جس کے نتیجے میں جغرافیائی دوریوں سے مبرا ڈپازیٹری کا وجود ممکن ہوا۔

ان دور اندیش اور وسیع العمل کوششوں کے نتیجے میں سینٹرل ڈپازیٹری سسٹم کا 3 ستمبر 1997 ء کے دن آغاز کر دیا گیا۔

سی ڈی سی کی ٹائم لائن

1993 ء

1993 1993میں پرائس واٹر ہاؤس کوپرز کے ماہرین نے ڈیپازیٹری کا نظریاتی ڈھانچہ تیار کرنے کیلئے ایک سٹڈی کا اہتمام کیا۔ اس سٹڈی کو یونا ئیٹڈ سٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ (یو ایس ایڈ) نے سپانسر کیا اور اس رپورٹ نے ڈیپازیٹری ڈیزائن کی بنیاد رکھی

1994 ء

سی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس سسٹم کو پاکستان میں متعارف کروانے کیلئے ایک ٹرن کی ٹھیکہ آئی بی ایم کنسورشیم کو عطا کیا۔ آئی بی ایم کنسورشیم نے قومی ضروریات، کمپنی اور بنکنگ قوانین، ضوابط و طریقہ کار اور منصوبے کے مالی اور تنظیمی پہلووں کے تفصیلی تجزیے کے بعد سی ڈی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ایک ہمہ گیر ماسٹر امپلیمینٹیشن پلان (ایم آئی پی) تجویز کیا

1995 ء

سی ڈی سی کے بورڈ نےماسٹر امپلیٹیشن پلان منظور کرلیا۔

1997 ء

  • سینٹرل ڈپازیٹری آرڈیننس اور سینٹرل ڈپازٹری ایکٹ کا نفاذ
  • سینٹرل ڈپازٹری کمپنی آف پاکستان کے ضوابط بنائے گئے اور سکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ان کو منظور کیا۔
  • 3ستمبر کوسی ڈی سی نے اپنے آپریشنز شروع کیے اور سینٹرل ڈپازٹری سسٹم پیش کیا

1999 ء

  • انفرادی اور کارپوریٹ سرمایہ کاروں کیلئے انوسٹر اکاؤنٹس سروسز کا اجرا ہوا اور اسطرح ان کو سی ڈی سی کے سینٹرل ڈپازیٹری سسٹم میں براہِ راست اکاونٹس کھولنے اور چلانے کا موقع فراہم ہوا۔
  • ٹرم فنانس سرٹیفیکیٹس (ٹی ایف سیز) کی سی ڈی ایس میں شمولیت۔

2000 ء

  • سی ڈی سی کی ہنگامی سائٹ کی تعمیر
  • سی ڈی ایس میں سکیوریٹیز کے الیکٹرونک ادغام کی سہولت کا آغاز

2002 ء

  • میوچل فنڈز کیلئے ٹرسٹی اور کسٹوڈیل سروسز کا اجراء، ابتدائی طور پر دو اوپن اینڈیڈ میوچل فنڈز سے جن کے خالص اثاثہ جات کی مالیت500 ملین روپے تھی
  • سیکیوریٹیز کی کنسالیڈیشن / سب ڈویژن کا اجراء

2003 ء

  • سی ڈی ایس کے صارفین کیلئے ایلیمنٹ ٹریننگ پروگرام کا اجراء
  • سی ڈی ایس میں واپڈا بونڈز کا اجراء

2004 ء

  • نیشنل کلیئرنگ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹم (این سی ایس ایس) پر مکمل عمل درآمد۔

2005 ء

  • پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں سرمایہ کاری روڈشوز کا انعقاد
  • ری انجینئرڈ سینٹرل ڈیپازٹری سسٹم پر عمل درآمد
  • اوپن اینڈڈ میوچل فنڈز کی سی ڈی ایس میں شمولیت

2006 ء

  • سی ڈی سی ہاؤس کا افتتاح
  • ایشیا پیسیفک سینٹرل سیکیوریٹیز ڈپازیٹریز گروپ (اے سی جی)کے دسویں سالانہ اجلاس عام کی کراچی میں میزبانی
  • سرمایہ کاری روڈ شوز کا دبئی اور ابو ظہبی میں انعقاد
  • “منی” میگزین میں شائع شدہ آزاد برانڈ ریکال سروے کے مطابق سی ڈی سی ملک کے سرمایہ کاری سیکٹرکے چار بڑے برانڈز میں شامل تھا۔’
  • سی ڈی سی ایکسس آئی وی آر اور ویب کا اجراء
  • لاہور آفس کا افتتاح

2007 ء

  • سی ڈی سی کے آپریشنز کی دہائی مکمل
  • ‘کیپیٹل مارکیٹ ڈیز کا لندن اور نیویارک میں انعقاد
  • سی ڈی ایس ٹرمینلز کے مزید تحفظ کیلئے محفوظ آئی ڈی ٹوکن کا اجراء
  • کارپوریٹ گاہکوں کیلئے یو آئی این (یونیورسل آئی ڈینٹی فیکیشن نمبر) کی تخلیق

2008 ء

  • ایشوز اور ان کے شیئر ہولڈرز کیلئے شیئر رجسٹرار سروسسز کا اجراء
  • فنڈ مینیجمنٹ سسٹم متعارف کروایا
  • سی ڈی سی کا گیلپ کے ذریعے گاہکوں کی اطمینان اور برانڈ سے آگاہی کے سروے کا انعقاد۔ سروے کے نتائج کے مطابق سی ڈی سی پاکستان کی سب سے زیادہ مسلّم اور ممتاز فنانشل برانڈ قرار پایا۔

2009 ء

  • سی ڈی سی اپنےڈیپازٹری کے جملہ آپریشنز جن میں روزمرہ کام، تکنیکی اور قانونی پہلو شامل ہیں آئی ایس او/ائی ای سی 2005.27001 سرٹیفائیڈ قرار پایا
  • سینٹرل ڈپازیٹری سسٹم میں بلا معاوضہ حقوق کی شمولیت پر عمل درآمد
  • سی ڈی سی کی ٹرسٹی اور کسٹوڈیل سروسسز نے 100 فنڈز حاصل کر لئے۔

2010 ء

  • خدمات کے نرخنامے میں تیزی سے کمی
  • سی ڈی ایس میں نیشنل سیونگ بانڈز کی شمولیت
  • تیسری پاکستان ڈے کانفرنس کا نیو یارک میں انعقاد
  • اے سی سی اے سے منظور شدہ آجر بن گیا
  • آئی ٹی مائینڈز لمیٹڈ مائیکروسافٹ گولڈ سرٹی فائیڈ پارٹنر اور آئی بی ایم پریمئیر بزنس پارٹنر بن گیا
  • ایشیا پیسیفک ڈیپازیٹریز گروپ کا اگزیکٹو کمیٹی ممبر منتخب ہوا
  • سی ڈی ایس میں سیکیوریٹیز کی منتقلی کے لیے نئےآٹومیٹڈ میکینزم کا اجرا

2011 ء

  • سٹینڈرڈ چارٹرڈ (پاکستان) بینک کےسٹریٹ ٹو بینک کا سی ڈی سی کے فنڈ مینیجمنٹ سسٹم کیساتھ انضمام
  • سی ڈی سی کا حکومت پنجاب کے پنجاب پینشن فنڈ کے ٹرسٹی کے طور پر تقرر
  • پہلی آئی پی او سمٹ کی ایل ایس ای کے ساتھ شریک میزبانی
  • آئی ٹی مائینڈز سی ڈی سی کا ذیلی ادارہ بن گیا (آئی ٹی کنسلٹینسی اینڈ امپلیمینٹیشن سروسز)
  • سی ڈی ایس اکاؤنٹس ہولڈرز کیلئے مفت ای سٹیٹمنٹ اور ای الرٹس کا اجرا
  • اے سی سی اے پاکستان سے سی پی ڈی منظور شدہ آجر کی حیثیت کا حصول
  • سی ڈی سی کے ملازمین کی اندرونِ سندھ فلڈ ریلیف سرگرمیاں

2012 ء

  • ایک سو ارب سیکیوریٹیز جن کی مالیت 21 ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے کا نگران بن گیا
  • مفت سرمایہ کاری آگاہی سیمینا ر کا کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں انعقاد
  • بی ایس 25999 سرٹی فیکیشن-دا برٹش سٹینڈرڈ فار بزنس کنٹینیوٹی مینیجمنٹ حاصل کرنے والی پاکستان میں پہلی کمپنی بن گئی
  • کامیاب آپریشنز کے 15 سال کی تکمیل
  • سی ڈی سی کے ملازمین کی سندھ کے دور دراز علاقوں میں فلڈ ریلیف سرگرمیاں

2013 ء

  • تقاریب کی ایک سیریز کے ذریعے کامیاب آپریشنز کے 15 سال کا جشن
  • ملازمین کی نشوونما کیلئے سی ایف اے انسٹیٹیوٹ کیساتھ اشتراک
  • آئی ایس او 27001 سرٹی فیکیشن کے دائرہ کار میں توسیع
  • لائف انشورنس کمپنیوں کیساتھ سینٹرلائزڈ انفارمیشن شیئرنگ سولوشن ایم او یو پر دستخط
  • سی ڈی سی ایشیا پیسیفک سینٹرل سکیوریٹیز ڈیپازیٹریز گروپ (اے سی جی) کا 16-2014 کیلئے سیکریٹیریٹ بن گیا
  • جناب محمد حنیف جکھورا سی ای او- سی ڈی سی اے سی جی کے اگزیکٹو کمیٹی کے چئیرمین منتخب ہو گئے

2014 ء

  • پی ایس ایکس پر خریدوفروخت ہونے والی گورنمنٹ سیکیوریٹیزکے سیٹل منٹ کا اجرا
  • سرمایہ کاری روڈ شوز کا پنجاب کے 6 بڑے شہروں میں انعقاد
  • سی ڈی سی کے ملازمین کی تھر کے خشک سالی سے متاثر علاقوں میں ڈزاسٹر ریلیف سرگرمیاں

2015 ء

  • ویب کے ذریعے آن لائن ٹرانزیکشن سروس کا آغاز
  • سی ڈی سی ڈالمین سٹی آر ای آئی ٹی کا ٹرسٹی بن گیا
  • سی ڈی سی کی ٹرسٹی شپ 500 ارب روپے سے بڑھ گئی